ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / راستے بند کرنا عدلیہ کا ٹرائل ہے، کارکن بنی گالا پہنچیں

راستے بند کرنا عدلیہ کا ٹرائل ہے، کارکن بنی گالا پہنچیں

Mon, 31 Oct 2016 11:50:39    S.O. News Service

اسلام آباد،30؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی ایس انڈیا)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت کا کنٹینر لگا کر راستے بند کرنا عدالیہ کی توہین ہے اور حکومت کے ان اقدامات سے اُن کا نہیں بلکہ عدلیہ کا ٹرائل ہو رہا ہے۔اتوار کو اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ کے باہر کارکنوں اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے ملک بھر سے اپنے کارکنوں کو آئندہ روز یعنی پیر کو بنی گالا پہنچنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ تمام رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے بنی گالا پہنچیں۔ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق حکومت نے خیبر پختوانخوا کو اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی شاہراوں کو کنٹینر اور رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا تھا جیسے اب کھولا جا رہا ہے۔

دوسری جانب وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے خیبرپختونخوا کو اسلام آباد سے ملانے والی سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ گذشتہ شب بعض مقامات پر سڑکیں اس وقت بند کردی گئی تھیں جب مسلح جتھے نے اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔عمران خان نے بنی گالا میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوان وزیراعظم سے اُس کی کرپشن کے بارے میں سوال پوچھنا اُن کا حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کرپشن پر جوابدہ ہیں اور جب اُن سے سوال پوچھا جاتا ہے تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت نے عدلیہ کی ہدایات کو بھی نظر انداز کر دیا ہے اور عدلیہ کے فیصلے کے خلاف جگہ جگہ راستے بند کیے ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کی جانب سے اسام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کے اعلان کے حوالے سے ایک درخواست کی سماعت کے بعد کہا تھا کہ کسی بھی وجہ سے وفاقی دارالحکومت کی سڑکیں دفاتر اور سکول بند نہ کیے جائیں۔

عمران خان نے کہا کہ وہ آزاد عدلیہ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلوں پر عملدارآمد کروائیں۔انھوں نے کہا کہ حکومت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف وہ پیر کو عدالت سے رجوع کرں گے اور ہم یہ دیکھیں گے عدلیہ کمزور کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے یا نہیں! عموماً عدلتیں حکومت کا ساتھ دیتی۔ہائی کورٹ کا فل بینچ پیر کو دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کے اعلان کے پیش نظر تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خدشات پر مبنی درخواست کی سماعت بھی کرے گا۔عمران خان نے کہا کہ ہم دو نومبر کو شہر کو بند نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن جب 10سے 12لاکھ افراد شہر میں داخل ہوں گے تو خود ہی شہر بند ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے خود ہی دو نومبر سے پہلے شہر کو بند کر کے لاک ڈؤان کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کرپشن کے الزامات کا جواب دیں یا مستعفی ہوں۔ان کی جماعت کا موقف تھا کہ وہ دو نومبر کو اسلام آباد کو لاک ڈآون کریں گے اور ڈی چوک میں دھرنا دیں گے۔پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس سے متعلق معاملے کی سماعت کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے جو یکم نومبر سے اس کی سماعت کرے گا۔اتوار کو عمران خان نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ وہ یکم نومبر کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوں گے۔ادھر اسلام آباد اور پنجاب میں دفعہ 144نافذ ہے جس کے تحت پانچ سے زیادہ افراد کے اجتماع کے اجتماع اور لاؤڈسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔


Share: